رامپور،19؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) یوپی پولیس نے سابق ریاستی وزیر اور سماج وادی پارٹی کے سینئرلیڈر اعظم خان کے خلاف مزید ۱۱؍ کیس درج کرلینے کا انکشاف کیا ہے جس کے بعد اتر پردیش کے اس قد آور مسلم لیڈر کے خلاف درج مقدمات کی تعداد 100؍ ہوگئی ہے۔مزید 11؍ مقدمات کے اندراج کا انکشاف اس وقت ہوا جب جیل میں بند اعظم خان بدھ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ کورٹ کے سامنے پیش ہوئے۔وہ اتر پردیش کی سیتاپور جیل میں طویل عرصے سے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں ۔
یوپی پولیس نے ایم پی / ایم ایل اے کے خصوصی کورٹ کو بتایا ہے کہ اعظم خان کا نام مزید 11؍ ایف آئی آرمیں شامل کرلیاگیاہے۔یہ ایف آئی آر ضلع میں غیر قانونی طورپر گھروں کو منہدم کرنے کے الزام کے تحت اعظم خان کے حامیوں کے خلاف درج کی گئی تھیں ۔ الزام ہے کہ مذکورہ گھروں کو منہدم کرنے کے بعد اعظم خان کے حامیوں نے وہاں سے ’’قیمتی چیزیں ‘‘ لوٹ لی تھیں ۔سرکاری وکیل رام اوتار سینی نےبتایا کہ ’’اعظم خان کے قریبی ساتھی سابق سرکل آفیسر علی حسن، سابق سب انسپکٹر فیروز خان،رامپور میونسپلٹی کے سابق چیئر مین اظہر احمد خان اور دیگر کے خلاف گنج کوتوالی میں 2019ء میں ڈکتی کا مقدمہ درج ہواتھا جس میں اعظم خان نے خود سپردگی کی عرضی دی ہے۔
وکیل نے بتایا کہ’’شکایت کنندگان کے ذریعہ درج کرائی گئی ایف آئی آر میں اعظم خان کا نام نہیں تھا مگر اب جانچ کے دوران اور ملزمین کے بیانات کی بنیاد پر ان کا نام بھی شامل کرلیاگیاہے۔‘‘ یاد رہے کہ یوگی سرکار کے ذریعہ یکے بعد دیگرے بڑی تعداد میں ایف آئی آردرج کئے جانے کے بعد اعظم خان نے فروری میں اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ خود سپردگی کردی تھی جس کے بعد سے وہ جیل میں ہیں ۔ یوگی سرکار پر عوامی سطح پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہتا ہے کہ وہ ریاست میں اقلیتی لیڈرشپ کو ختم کرنے کیلئے انتہائی جارحانہ طریقے سےاقدامات کر رہی ہے۔ ان کے اوران کے حامیوں کے خلاف لوٹ اور مار اورچوری جیسی شکایتیں درج کی گئی ہیں ۔
یوگی سرکار کے طرز عمل کا اندازہ اعظم خان کے ساتھی ملزم کو ضمانت پر رہاکرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کےفیصلے میں اس کے تبصرہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ کورٹ نے سابق سرکل آفیسر علی حسن خان جسے یوگی سرکار نے ان کا قریبی ساتھی قراردیا ہے، کی ضمانت کی عرضی منظور کرتے ہوئے یوگی سرکار کی مخالفت پر کہاتھا کہ عرضی گزار کے خلاف مجرمانہ معاملات درج ہونے کا سلسلہ 2019ء میں حکومت بدلنے کے بعد ہی شروع ہوا۔ جسٹس سدھارتھ کی بنچ کے مطابق ملزم کی مجرمانہ تاریخ کا آغاز 2019ء کے بعد ہی ہوتا ہے۔ عرضی گزار کے خلاف جو 54؍ معاملات درج ہوئے ہیں سب کے سب ریاست میں نئی حکومت بننے کے بعد ہوئے ہیں ۔ جو حتمی رپورٹ درج کی گئی ہے اس کے مطابق اس سے قبل عرضی گزار کے خلاف صرف ۳؍ ہی کیس تھے جو بہت چھوٹے معاملات سے متعلق ہیں ۔
اعظم خان اور اہل خانہ کیخلاف اوسطاًہرڈھائی دن میں ایک مقدمہ درج ہوا: یوگی سرکار بننے کے بعد2019ء میں اعظم خان اوران کے اہل خانہ کے خلاف اوسطاً ہر ڈھائی دن میں ایک مقدمہ درج کیاگیاہے۔ اعظم خان کے خلاف درج مقدمات کی تعداد جہاں 100؍ پہنچ گئی ہے وہیں ان کی بیوی تزئین فاطمہ کے خلاف 34؍ اور عبداللہ اعظم کے خلاف 44؍ مقدمے درج کئے گئے ہیں ۔ اعظم خان کے خلاف 100؍ میں سے 70؍ کیس2019ء میں درج ہوئے تھے۔ 2019ء میں ان کے اوران کے اہل خانہ کے خلاف مجموعی طور پر 148؍ معاملے درج ہوئے۔